MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

غزل

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں
پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا

کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو
یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا

نہ جانے کس کو پکارا گلے لگا کے مجھے
مگر وہ میرا نہیں تھا جو نام اس نے لیا

بہار آئی تو پھولوں سے ان کی خوشبو لی
ہوا چلی تو ہوا سے خرام اس نے لیا

فنا نے کچھ نہیں مانگا سوال کرتے ہوئے
اسی ادا پہ خدا سے دوام اس نے لیا

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم