MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ بھی ہو جائے میں اسباب نہیں دیکھوں گا

غزل

کچھ بھی ہو جائے میں اسباب نہیں دیکھوں گا
تجھ سے ملنے کے کبھی خواب،نہیں دیکھوں گا
چپ رہوں گا میں بھرے مجمع میں لیکن مرے دوست
خوف و دہشت زدہ اعصاب نہیں دیکھوں گا
یونہی خاموش رہوں گا میں تری محفل میں
تجھ کو ہوتا ہوا بیتاب نہیں دیکھوں گا
میں بھی اس خانہ بدوشی کی سہولت کے طفیل
دل کے صحرا میں کبھی آب نہیں دیکھوں گا
روز دیکھوں گا محبت کے فسانوں کو ندیم
اپنی خوش فہمی کے ابواب نہیں دیکھوں گا
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم