MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے

غزل

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے
اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے

میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ
آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے

انگلی اٹھا رہا ہے تو کردار پر مرے
تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے

نظریں بدل رہا ہے اگر وہ تو غم نہیں
کانٹا اب اپنی رہ سے ہٹانا مجھے بھی ہے

میں برف زادہ کب سے عجب ضد پہ ہوں اڑا
سورج کو اپنے پاس بلانا مجھے بھی ہے

بلقیس خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم