MOJ E SUKHAN

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت

غزل

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت
جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت

سوچا تو بے خلوص تھیں سب اس کی قربتیں
جس کے بغیر گھر مرا ویران تھا بہت

بے خواب سرخ آنکھوں نے سب کچھ بتا دیا
کل رات دل میں درد کا طوفان تھا بہت

یہ کیا کیا کہ پیار کا اظہار کر دیا
میں اپنی اس شکست پہ حیران تھا بہت

وحشت میں کیوں کسی کے گریباں کو دیکھتا
میرے لیے تو اپنا گریبان تھا بہت

اب تو کوئی تمنا ہی باقیؔ نہیں رہی
یہ شہر آرزو کبھی گنجان تھا بہت

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم