MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا

غزل

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا
زندہ رہنے کا کوئی تو آسرا مل جائے گا

اے مری چشم پشیماں اپنے آنسو روک لے
رات کی تنہائی میں رونے سے کیا مل جائے گا

زندگی کے کارواں پر کچھ اثر پڑتا نہیں
اک مسافر کھو گیا تو دوسرا مل جائے گا

ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بے چراغ
تیرگی سے آپ کو میرا پتا مل جائے گا

سوچتے رہنے سے تو منزل کبھی ملتی نہیں
چلتے جاؤ راستے سے راستہ مل جائے گا

کوئی تو میرا بھی ہوگا منتظر باقیؔ یہاں
اک نہ اک تو دل کا دروازہ کھلا مل جائے گا

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم