MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی

غزل

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی
مقتل میں خون گرم کی ہر دھار بول اٹھی

پوچھا سبک سروں کا نمائندہ کون ہے
سن کر فقیہ شہر کی دستار بول اٹھی

اہل ستم کے خوف سے جو چپ تھی وہ زباں
جب بولنے پہ آئی سر دار بول اٹھی

میری تباہیوں کی ہے اس میں خبر ضرور
از خود ہر ایک سرخیٔ اخبار بول اٹھی

چہرہ تھا زخم زخم کوئی پوچھتا نہ تھا
یوسف بنے تو گرمئ بازار بول اٹھی

اک ناخدا ہی یورش طوفاں پہ چپ رہا
چپو کبھی تو اور کبھی پتوار بول اٹھی

کچھ اس طرح سے نقش تھے اینٹوں پہ سانچے کے
زنداں میں مجھ کو دیکھ کے دیوار بول اٹھی

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم