MOJ E SUKHAN

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا

غزل

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا
یعنی پھر گڑیوں کا کھیل تماشا ہوگا

محل تو ہولی دیوالی کے لئے بنے ہیں
آگ کا رمق تو لا وارث کا خیمہ ہوگا

کھاری پانی کی جھیلیں سب بچ جائیں گی
لقمہ سیاہ سمندر کا بس دریا ہوگا

میری تیری آنکھ کی قسمت کنکر مٹی
ان کی آنکھ کی زینت ہو تو سرمہ ہوگا

دوزخ کے سب دروازے تو کھلے ہوئے ہیں
جنت کے دروازے پر کیا تالا ہوگا

ساحل پر جب سبز فرشتے ہی رہتے ہیں
دریا میں پھر کس نے زہر ملایا ہوگا

میرا سلام اس شہزادے کو پہنچا جس کے
بے سر جسم پہ اک بوسیدہ کرتا ہوگا

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم