MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے

غزل

کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے
یہ خاک بھی کبھی آسودۂ نمو ہو جائے

بیاض دل پہ ترا نقش آشکارا ہو
پھر اس کے بعد تری دید کو بہ کو ہو جائے

نہیں کہ رنگ حنا میرے ہاتھ پر نہ کھلا
ہتھیلیوں کو یہ ضد تھی کہ دل لہو ہو جائے

وہ اور ہیں کہ جو سامان زیست مانگتے ہیں
پہ اس قدر ہو کہ سامان آبرو ہو جائے

یہ اذن روز ازل عشق کو دیا نہ گیا
کہ مبتلائے ہوس کوئی آرزو ہو جائے

وہ فتنہ گر کہ کبھی کھینچ لے بدن سے لہو
کبھی وہ چشم سیہ کار آب جو ہو جائے

بحال ہو جو تکلم کا سلسلہ تو عبیرؔ
ترے نصیب پہ شاید کہ گفتگو ہو جائے

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم