MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت

غزل

کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت
نگاہ آپ سے گلہ گزار ہو تو معذرت

سر مژہ عجب عجب چراغ جل اٹھیں اگر
نواح چشم جشن نو بہار ہو تو معذرت

یہ نخل بے نمو جو برگ و بار لا نہیں سکا
بہ فیض دست غیر شاخسار ہو تو معذرت

شکستگی کے بعد دل بھی دیکھنے کی چیز ہے
نظر پڑے پہ آنکھ شرمسار ہو تو معذرت

جنوں کی رو میں ہو رہی ہے اک کے بعد اک غزل
یہ سلسلہ ابھی ستارہ وار ہو تو معذرت

رواق جاں میں نزد شام اک دیا سا جل اٹھے
نگار شب کے ہاتھ میں ستار ہو تو معذرت

سپاہ غم تو دل کو روندتے ہوئے گزر چکی
محیط منزلوں ابھی غبار ہو تو معذرت

میں خود سے تو حساب دوستاں کبھی نہیں کیا
خدا نہ کردہ گر کبھی شمار ہو تو معذرت

فقیر کا تو حاصل حیات ہے یہی ہنر
جناب کو متاع کم عیار ہو تو معذرت

بہ یک نگہ میں خسرو غزل تو ہو نہیں سکی
یہ درد مے خمار مستعار ہو تو معذرت

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم