MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا

غزل

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا
وہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیا

اپنے ہی دل کی بات ہے اپنے کئے کی لاج
کعبہ بنا رہا تھا میں بت خانہ بن گیا

اللہ رے بزم ناز تری ناشناسیاں
جس کو کیا سلام وہ بیگانہ بن گیا

چپکے سے ان کا نام لیا دل سے بات کی
یہ کون سن رہا تھا کہ افسانہ بن گیا

خلاق حسن و عشق بڑا دل نواز ہے
تخلیق شمع ہوتے ہی پروانہ بن گیا

دنیا کے تخت و تاج رضاؔ ٹھوکروں پہ ہیں
کیا چیز اپنا ٹھاٹھ فقیرانہ بن گیا

آل۔ رضا رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم