خبر نہیں تھی یہ زندگی میں کمال ہو گا
جو تھا مخالف وہ شخص ہم خیا ل ہو گا
اگر ہو ممکن مجھے بھلانا تو بھول جانا
میں جانتی ہوں تمیں بھلانا محال ہوگا
گلے بہت سے جو ان کہے ہیں کرونگی میں بھی
جو رشتہ ان سے کبھی ہمارا بحال ہو گا—
کوئی مجھے کلُ جہان دیدے تمارے بدلے
میرے لبوں پر مگر تمارا سوال ہو گا—
یہ عشق ایسی بلا ہے ہم نے کہاں تھا سوچا
کہ رات ہو دن ہو بس تمارا خیال ہوگا—
عجب کلجگ کا ہے زمانہ خبر نہیں تھی
غرض کے رشتے سبھی وفا کا بھی کال ہوگا
کبھی تو شاہین اہل فن ہم کو مان لیں گے
کبھی تو اپنا بھی شعر کوئی۔ کمال ہوگا——
شاہین برلاس