MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جذبوں کی تجارت جاری ہے

Jazboo ki tijaarat jaari Hay

غزل

جذبوں کی تجارت جاری ہے
ہر سَمت عدالت جاری ہے

رشتے تو کبھی کے ختم ہوئے
بس رسمِ مَحبت جاری ہے

شعلوں میں لپٹتی بستی میں
تحریکِ مذمت جاری ہے

تقلید کے اندھے رستے پر
خاموش بغاوت جاری ہے

لگتا ہے خدا کی بستی میں
بس شوقِ شہادت جاری ہے

جس دن سے خلش کو دوست ملے
اُس دن سے قیامت جاری ہے

سہیل ضرار خلش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم