Jazboo ki tijaarat jaari Hay
غزل
جذبوں کی تجارت جاری ہے
ہر سَمت عدالت جاری ہے
رشتے تو کبھی کے ختم ہوئے
بس رسمِ مَحبت جاری ہے
شعلوں میں لپٹتی بستی میں
تحریکِ مذمت جاری ہے
تقلید کے اندھے رستے پر
خاموش بغاوت جاری ہے
لگتا ہے خدا کی بستی میں
بس شوقِ شہادت جاری ہے
جس دن سے خلش کو دوست ملے
اُس دن سے قیامت جاری ہے
سہیل ضرار خلش