MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓ

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓ
جیسے نزہت کوٸ رک رک کے محل میں آۓ

ہاۓ وہ عشق کی نیرنگ تمنا مت پوچھ
مست ہو ہو کے مری شوخ غزل میں آۓ

روح کو تازگی دے جاۓ ہے شبنم کی طرح
جب بھی وہ شعلہ بدن میری بغل میں آۓ

جبر کی حد سے نکلنے کی طلب میں کچھ لوگ
دیکھتے دیکھتے سب دام اجل میں آۓ

اہل دنیا میں کہاں اتنی بصیرت، دیکھے
جو نظر مجھ کو ترے ماتھے کے بل میں آۓ

لفظ کےحسن پہ چھاجاۓ ہے معنی کا طلسم
وہ سلیقے سے اگر بحر رمل میں آۓ

جانے کیا ہوگا ترا رد عمل پھر عالم
اس کا جب عکس نظر میری غزل میں آۓ

(ڈاکٹر افروز عالم)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم