کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓ
جیسے نزہت کوٸ رک رک کے محل میں آۓ
ہاۓ وہ عشق کی نیرنگ تمنا مت پوچھ
مست ہو ہو کے مری شوخ غزل میں آۓ
روح کو تازگی دے جاۓ ہے شبنم کی طرح
جب بھی وہ شعلہ بدن میری بغل میں آۓ
جبر کی حد سے نکلنے کی طلب میں کچھ لوگ
دیکھتے دیکھتے سب دام اجل میں آۓ
اہل دنیا میں کہاں اتنی بصیرت، دیکھے
جو نظر مجھ کو ترے ماتھے کے بل میں آۓ
لفظ کےحسن پہ چھاجاۓ ہے معنی کا طلسم
وہ سلیقے سے اگر بحر رمل میں آۓ
جانے کیا ہوگا ترا رد عمل پھر عالم
اس کا جب عکس نظر میری غزل میں آۓ
(ڈاکٹر افروز عالم)