MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دی

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دی
آخرش یوں ہوا منزل نے بغاوت کر دی

راگ بکھرا تو ہر ایک ساز نے تیور بدلا
رقص مشکل ہوا محفل نے بغاوت کر دی

کشتیاں ٹوٹیں تو قزاق مرے یار ہوۓ
راہ سوجھی بھی تو ساحل نے بغاوت کر دی

غور سے دیکھو تو حالات سمجھ جاٶگے
کہنا آسان ہے مشکل نے بغاوت کر دی

ایک امید کی ہلکی سی کرن تھا شاہد
اس کی ہر بات سے عادل نے بغاوت کر دی

(ڈاکٹر افروز عالم)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم