MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رشک مہتاب جہاں تاب تھا ہر قریۂ جاں

غزل

رشک مہتاب جہاں تاب تھا ہر قریۂ جاں
جب بھی دل پر چمک اٹھے ترے قدموں کے نشاں

کون گزرا ہے مہک بن کے دیار دل سے
اتنی گل پوش تھیں کب شہر طلب کی گلیاں

تیری تصویر کے پرتو نہیں مٹنے پاتے
ایک مدت سے ہے دل کارگہہ شیشہ گراں

آج اس موڑ پہ ہے شہر تمنا آباد
ترا دامن نگہ شوق نے چوما تھا جہاں

میں ترے درد کی کلفت کو کہاں لے آیا
میرے ہم راہ دھڑکتا ہے دل کون و مکاں

اتنی مدھم تو نہیں ہے مری فریاد کی لے
ان سلاسل کی صدا گونجے گی زنداں زنداں

وقت آئے گا کہ دہرائیں گے خود اہل جفا
میں نے جو گیت سنائے ہیں سر نوک سناں

موج در موج ابھرتے ہیں تمنا کے سراب
میری تشنہ دہنی میں ہیں سمندر پنہاں

میں وہ اشکوں کا بھکاری ہوں سر راہ وفا
جس کی ٹھوکر میں رہا مرحلۂ سود و زیاں

میں وہ سودائی گل ہوں کہ مری آنکھوں نے
سینۂ غار میں دیکھی ہیں مچلتی کلیاں

غم کے لمحوں کا تعین کبھی سوچا تو نسیمؔ
ایک اک پل سے مجھے جھانک رہی تھیں صدیاں

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم