MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے

غزل

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے
پاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہے

جاڑے کی اس دھوپ نے دیکھو کیسا جادو پھیر دیا
بے حد سبز درختوں کا بھی رنگ سنہرا لگتا ہے

بھیڑیں اجلی جھاگ کے جیسی سبزہ ایک سمندر سا
دور کھڑا وہ پربت نیلا خواب میں کھویا لگتا ہے

جس نے سب کی میل کثافت دھوئی اپنے ہاتھوں سے
دریا کتنا اجلا ہے وہ شیشے جیسا لگتا ہے

اندر باہر ایک خموشی ایک جلن بے چینی سے
کس کو ہم بتلائیں آخر یہ سب کیسا لگتا ہے

شام لہکتے جذبوں والی فکریؔ کب کی راکھ ہوئی
چاند رو پہلی کرنوں والا درد کا مارا لگتا ہے

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم