Jahan talk ussay Aaoon nazar Dareechay Say
غزل
جہاں تلک اسے آؤں نظر دریچے سے
وہ دیکھتا ہے مجھے سر بسر دریچے سے
جدا ہوا تھا بنا کر وہ نقسِ پا جس پر
وہ رہ گزر بھی آتی ہے نظر دریچے سے
بڑھا کے ہاتھ اسے رات چھو لیا میں نے
جو چاند جھانک رہا تھا ادھر دریچےسے
اسے بھی خاہش دیدار نے ستایا جب
وہ دیکھنے مجھے آیا ، مگر دریچے سے
گری تھی دور کہیں برق، وقتِ دید مگر
لرز کے ہٹ گیا رشکِ قمر دریچے سے
ہوا سے چاند سے یا شام سے ہے دوستی کیا
لگے کھڑے ہو جو یوں بے خبر دریچے سے
صدف وہ ہجر کا مارا ہوا پرندہ تھا
اٹھا کے رو دیا میں جس کے پر دریچے سے
علی صدف
Ali Sadaf