MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

غزل

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا
پر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑا

اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا
جس کی الفت میں دلا تو نے زمانا چھوڑا

اٹھ گیا پردۂ ناموس مرے عشق کا آہ
اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا

ہاتھ سے میرے وہ پیتا نہیں مدت سے شراب
یارو کیا اپنی خوشی میں نے پلانا چھوڑا

تیرے غمگیںؔ کو پریشانی ہے اس روز سے یار
تو نے جس روز سے زلفوں کا بنانا چھوڑا

غمگین دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم