MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی

غزل

اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی
کیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگی

کعبہ میں وہ ظہور ہے جو بت کدہ میں ہے
اے شیخ منصفی سے تو کہیو خدا لگی

پا تک بھی دسترس نہ ہو مجھ کو یہ رشک ہے
اور تیرے ہاتھ میں رہے قاتل حنا لگی

دشنام تم نے مجھ کو جو دی تو میں خوش ہوا
اور میں نے دی دعا تو تجھے بد دعا لگی

وہ غنچہ لب جو خندہ زناں ہے چمن میں آج
شاید گلوں کے کھلنے کی اس کو ہوا لگی

خوابیدہ بخت نے وہیں بیدار کر دیا
تیرے خیال میں جو یہ آنکھ اک ذرا لگی

غمگیںؔ جو ایک آن پہ تیرے ادا ہوا
کیا خوش ادا اسے تری اے خوش ادا لگی

غمگین دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم