چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کر
جس طرف دریا چڑھا ہو اس طرف سے پار کر
ڈوب کر کشتی کبھی ابھری نہیں پاتال سے
جیتنا ممکن نہیں ہوتا ہے خود کو ہار کر
پھر نظر آئیں گے اگلی منزلوں کے پیچ و خم
دیکھ پانی میں اتر کر ہاتھ کو پتوار کر
تشنگی ویراں دریچے مفلسی آہ و بکا
اے امیر شہر اس منظر کا بھی دیدار کر
جاوید منظر