MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی
یہ خبر دیکھنا اب اور کدھر جائے گی

کیا مری ذات تری فکر کو دے گی مہمیز
کیا مری بات ترے دل میں اتر جائے گی

لفظ بدلے ہیں تو معنی بھی بدلنا ہوں گے
ورنہ تعمیر کسی اور کے سر جائے گی

روح اک دن تو بدن سے مرے ہوں گی آزاد
چاہتا ہوں کہ نہ جائے وہ مگر جائے گی

علم کے ساتھ ہے لازم کہ عمل ہو منظرؔ
بات صحرا کی صدا ہو تو کدھر جائے گی

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم