MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوم

سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوممیں کیسی راہ چلا ہوں مجھے نہیں معلوم مری سرشت سے کس فکر کی ہوئی تائیدحریف کس کا بنا ہوں مجھے نہیں معلوم مرے جواب پہ کیا کیا سوال برسے ہیںغلط نما کہ بجا ہوں مجھے نہیں معلوم کبھی ہوں برف کبھی دھوپ کا میں آرزومندمیں کیسی شے […]

سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوم Read More »

بات کچھ بھی نہیں مگر, پھربھی

بات کچھ بھی نہیں مگر, پھربھیبد گمانی اِدھر اُدھر ، پھر بھی عقل نے کونسا جتن نہ کیاہائے ٹکڑے ہوا جگر پھر بھی عشق تفریح یا مذاق نہیںکھیلتا کیوں ہے جان پر پھر بھی تُو بہت بے خیال ہے ، اِس کیکیا تجھے ہے کوئی خبر پھر بھی لاپتہ ہیں تمام تعبیریںخواب پھرتے ہیں دربدر

بات کچھ بھی نہیں مگر, پھربھی Read More »

قلم اُداس ہے اب کونسا بیاں لکھ دوں

قلم اُداس ہے اب کونسا بیاں لکھ دوںسزائے موت ملے گی اگر فغاں لکھ دوں سکھائے مجھ کو نشیب و فراز صدموں نےگئی جو عمر اُسے کیسے رائگاں لکھ دوں تڑپ رہا ہے وہاں تُو یہاں ہوں میں بیتابمیں شش و پنج میں اب کس کی داستاں لکھ دوں کِیا ہے کون اذیّت سے آشنا

قلم اُداس ہے اب کونسا بیاں لکھ دوں Read More »

سمندر تھا میں اب صحرا بنا ہوں

سمندر تھا میں اب صحرا بنا ہوںعجب اپنا تماشا دیکھتا ہوں غلط فہمی تری ، محفوظ ہوں میںتمہیں کیا علم کیسے جی رہا ہوں ملی تعذیب خود داری پہ کیسیبھری دنیا میں تنہا رہ گیا ہوں شعورِ ذات میری مجھ سے نالاںکسی پتھر کو میں کیوں پوجتا ہوں بہت نزدیک ہوں اب آسماں کےمیں لمحہ

سمندر تھا میں اب صحرا بنا ہوں Read More »

درد سے برسرِ پیکار کبھی یوں نہ ہوا

درد سے برسرِ پیکار کبھی یوں نہ ہوامیں محبّت میں گرفتار کبھی یوں نہ ہوا سوچتا جب بھی تجھے روح شگفتہ ہوتیمیں تری یاد میں بیمار کبھی یوں نہ ہوا جانے کس فکر میں اندیشہ بڑھا ہے اتناآئنہ عکس سے دوچار کبھی یوں نہ ہوا تجھ کو پانے کی فقط ٹھان ہی لینی تھی مجھےحوصلہ

درد سے برسرِ پیکار کبھی یوں نہ ہوا Read More »

دل مرا بحرِ اشتباہ میں ہے

دل مرا بحرِ اشتباہ میں ہےکیا تجھے سوچنا گناہ میں ہے غم گساری ہے عہدِ رفتہ کی باتاب محبّت کہاں نباہ میں ہے دن کی ژولیدگی ہمیں معلومشب کی تعذیب بھی نگاہ میں ہے گُل زمیں کی وہ دلکشی نہ رہیاب صبا بھی فغان و آہ میں ہے کون کس کو ہلاک کرتا ہےاک تذبذب

دل مرا بحرِ اشتباہ میں ہے Read More »

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسےوہ بھی ایسے کہ کئی روز مسلسل برسے منتظر اور بھی صحرا ہیں اسی بادل کےصرف تجھ پر ہی بھلا کیسے یہ ہر پل برسے پیاس اس شہر کی بجھنے کا یہی رستہ ہےبن کے بادل کسی درویش کی چھاگل برسے لگ گئی کس کی نظر شہر نگاراں

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے Read More »

بہت مضبوط لوگوں کو بھی غربت توڑ دیتی ہے

بہت مضبوط لوگوں کو بھی غربت توڑ دیتی ہےانا کے سب حصاروں کو ضرورت توڑ دیتی ہے جھکایا جا نہیں سکتا جنہیں جبر و عداوت سےانہیں بھی اک اشارے میں محبت توڑ دیتی ہے کسی کے سامنے جب ہاتھ پھیلاتی ہے مجبوریتو اس مجبور کو اندر سے غیرت توڑ دیتی ہے ترس کھاتے ہیں جب

بہت مضبوط لوگوں کو بھی غربت توڑ دیتی ہے Read More »

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہوبے کار ہی یارو غم حالات کرو ہو اک مجھ سے ہی ملنے کو تمہیں وقت نہیں ہےاوروں پہ تو اکثر ہی عنایات کرو ہو یہ طرز تکلم تمہیں آیا ہے کہاں سےہونٹوں سے جو یہ پھولوں کی برسات کرو ہو کیوں چاند سے چہرے پہ گرا

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو Read More »

کوئی انعام وفا ہے کہ صلا ہے کیا ہے

کوئی انعام وفا ہے کہ صلا ہے کیا ہےاس نے یہ درد محبت جو دیا ہے کیا ہے بھولنے کو تجھے دل کیوں نہیں راضی ہوتاتیری یادوں میں کسک ہے کہ مزہ ہے کیا ہے کس نے دروازے پہ یہ رات گئے دستک دییاد اس کی ہے کہ وہ خود کہ ہوا ہے کیا ہے

کوئی انعام وفا ہے کہ صلا ہے کیا ہے Read More »