MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤںاس سے اچھا تو یہی ہے کہ میں تنہا ہو جاؤں پیاس کو میری جو اک جام نہ دے پایا کبھیتشنگی اس کی یہ کہتی ہے میں دریا ہو جاؤں مجھ کو جکڑے ہوئے رشتوں کی حقیقت مت پوچھبس چلے میرا اگر تو میں اکیلا ہو […]

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں Read More »

میں جب بھی طالب ناموس ہونے لگتا ہوں

میں جب بھی طالب ناموس ہونے لگتا ہوںنئے لباسوں میں ملبوس ہونے لگتا ہوں دکھانے لگتا ہے وہ خواب آسمانوں کےزمیں سے جب بھی میں مانوس ہونے لگتا ہوں جلایا جس نے مرا گھر اسی دیے کے لیےہوا چلے تو میں فانوس ہونے لگتا ہوں اچھال دیتا ہے پتھر وہ ٹھہرے پانی میںمیں پر سکون

میں جب بھی طالب ناموس ہونے لگتا ہوں Read More »

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروںاے خواب رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں وہ ہے بضد اسی پہ کہ میں التجا کروںکچھ تو بتا اے میری انا اب میں کیا کروں پانے کی جد و جہد میں عمریں گزر گئیںاک بار تجھ کو کھونے کا بھی حوصلہ کروں ہر آنے والا بزم

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں Read More »

رقص بسمل کی مرے دل کو ادا بھی آئے

رقص بسمل کی مرے دل کو ادا بھی آئےمجھ سے بچھڑو تو تڑپنے کا مزا بھی آئے عالم حبس ہے کچھ ٹھنڈی ہوا بھی آئےیاد ایسے میں تری کوئی وفا بھی آئے چند لمحوں کو ہٹا اپنی انا کے پردےکھڑکیاں کھول تو کچھ تازہ ہوا بھی آئے اب کہاں سے تمہیں لوٹائیں تمہارے وہ خطوطہم

رقص بسمل کی مرے دل کو ادا بھی آئے Read More »

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیامیں نے تجھ کو نہ کسی لمحہ فراموش کیا اس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشاشہر کے شہر کو اس شخص نے خوش پوش کیا ہجر کے صدمے بہت بخشے یہ سچ ہے لیکنلذت وصل سے بھی اس نے ہم آغوش کیا وقت کی دھول

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا Read More »

زندگی میں وہ اب جمال کہاں

زندگی میں وہ اب جمال کہاں سُر کہاں اور سُر میں تال کہاں کن سرابوں کو چھو کے آئے ہو؟ چشمِ آہو کہاں ، غزال کہاں یاد کرنے پہ یاد آتے ہیں ! ہیں ترے خواب اور خیال کہاں ڈھونڈتی ہے نگاہِ شوق جنھیں میرے یارانِ خوش خصال کہاں جانے تم کس لئے پشیماں ہو

زندگی میں وہ اب جمال کہاں Read More »

ان کہے لفظ ۔۔

ان کہے لفظ ۔۔ وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی مرے لہو میں رواں ہیں صداقتوں کی طرح میں بوند بوند حقیقت کا زہر پیتی ہوں میں اشک اشک سلگتی ہوں رت جگوں کی طرح وہ سارے لفظ جو لکھے نہیں گئے ہیں ابھی خیالِ کن کی صداؤں کے منتظر ہیں ابھی

ان کہے لفظ ۔۔ Read More »

سوچ کے بعد

سوچ کے بعد جو عہدِ رفتہ بھلا رہی ہوں وہ میں نہیں ہوں ! جو خواب رت کو سجا رہے ہو وہ تم نہیں ہو ! چلی ہے جو مخالفت میں اپنی یہ وہ ہوا ہے جو جنگلوں کو جلا رہی ہے جو آتشیں رنگ ڈھا رہی ہے مسافرت میں ۔۔ جو تم کو مجھ

سوچ کے بعد Read More »

خواب آثار

خواب آثار ‎ابھی تو تم سے اپنی گفتگو کے تار باقی ہیں ‎ابھی آدھی ہے شب اور خواب کے آثار باقی ہیں ابھی منزل طلب کے راستوں میں کھوئی کھوئی ہے ابھی اک کہکشاں ہے بام پر جو سوئی سوئی ہے مرادوں اور امنگوں کے کئی کوہسار باقی ہیں ابھی آدھی ہے شب اور خواب

خواب آثار Read More »

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی جانے کس دہر سے آیا ہے یہ طوفان بلا یہ جو طوفان کہ اس میں ہیں کھنڈر خوابوں کے ٹوٹتے خواب ہیں دھندلی سی گزر گاہوں کے ان کہی کوئی کہانی، کوئی جلتا آنسو آ کے دامن پہ ٹہرتا ہوا بے کل شکوہ چپ سی سادھی ہے

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی Read More »