MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوم

سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوم
میں کیسی راہ چلا ہوں مجھے نہیں معلوم

مری سرشت سے کس فکر کی ہوئی تائید
حریف کس کا بنا ہوں مجھے نہیں معلوم

مرے جواب پہ کیا کیا سوال برسے ہیں
غلط نما کہ بجا ہوں مجھے نہیں معلوم

کبھی ہوں برف کبھی دھوپ کا میں آرزومند
میں کیسی شے سے بنا ہوں مجھے نہیں معلوم

خطا ہوئی ہے کہاں دن کی پیش بینی سے
کہاں سے شب کو ملا ہوں مجھے نہیں معلوم

کِیا ہے صرف مجھے وقت کس سلیقے سے
ابھی میں کتنا بچا ہوں مجھے نہیں معلوم

کہاں پہ میرے تصور نے ٹھوکریں کھائیں
کہاں قبول ہوا ہوں مجھے نہیں معلوم

ہوا کے کہنے پہ موجوں نے قتل و غارت کی
کنارے کیسے لگا ہوں مجھے نہیں معلوم

ہے اتنا یاد کہ آندھی چلی قیامت خیز
شجر پہ ہوں میں گرا ہوں مجھے نہیں معلوم

طلوع ہوا تھا کہاں سے یہ آگہی ہے مگر
کہاں غروب ہوا ہوں مجھے نہیں معلوم

عبور کرنے ہیں منظور مرحلے کتنے
کہاں پہ آ کے رکا ہوں مجھے نہیں معلوم

احمد منظور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم