درد سے برسرِ پیکار کبھی یوں نہ ہوا
میں محبّت میں گرفتار کبھی یوں نہ ہوا
سوچتا جب بھی تجھے روح شگفتہ ہوتی
میں تری یاد میں بیمار کبھی یوں نہ ہوا
جانے کس فکر میں اندیشہ بڑھا ہے اتنا
آئنہ عکس سے دوچار کبھی یوں نہ ہوا
تجھ کو پانے کی فقط ٹھان ہی لینی تھی مجھے
حوصلہ ہو کے میں لاچار کبھی یوں نہ ہوا
آج ترجیح پہ رکھا ہے ملاقات وہ کیوں
مجھ سے ملنے کا طلب گار کبھی یوں نہ ہوا
یہ الگ بات کہ تعبیر کے بوسے نہ ملے
خواب سے خواب بھی بیزار کبھی یوں نہ ہوا
میرے باطن نے بھی اب مجھ سے بغاوت کردی
آپ کا چہرہ بھی اخبار کبھی یوں نہ ہوا
آج ہے کیسا مرے سر پہ ستارہ روشن
اس سے پہلے میں ضیا بار کبھی یوں نہ ہوا
ختم ہوتا ہی نہیں ہے کسی صورت منظور
آنکھ سے دشت نمودار کبھی یوں نہ ہوا
احمد منظور