MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں
اس سے اچھا تو یہی ہے کہ میں تنہا ہو جاؤں

پیاس کو میری جو اک جام نہ دے پایا کبھی
تشنگی اس کی یہ کہتی ہے میں دریا ہو جاؤں

مجھ کو جکڑے ہوئے رشتوں کی حقیقت مت پوچھ
بس چلے میرا اگر تو میں اکیلا ہو جاؤں

لے کے جاؤں کہاں احساس وفاداری کو
دل تو کہتا ہے کہ میں بھی ترے جیسا ہو جاؤں

ہو کسی طور تو دنیا کی توجہ مجھ پر
ایک دو پل کے لیے میں بھی تماشا ہو جاؤں

دل کی مجبوری عجب چیز ہے ورنہ جاویدؔ
کون چاہے گا بھلا خود کہ میں رسوا ہو جاؤں

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم