MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں جب بھی طالب ناموس ہونے لگتا ہوں

میں جب بھی طالب ناموس ہونے لگتا ہوں
نئے لباسوں میں ملبوس ہونے لگتا ہوں

دکھانے لگتا ہے وہ خواب آسمانوں کے
زمیں سے جب بھی میں مانوس ہونے لگتا ہوں

جلایا جس نے مرا گھر اسی دیے کے لیے
ہوا چلے تو میں فانوس ہونے لگتا ہوں

اچھال دیتا ہے پتھر وہ ٹھہرے پانی میں
میں پر سکون جو محسوس ہونے لگتا ہوں

یہ کس کی پیاس کی خاطر کبھی کبھی جاویدؔ
میں ایک قطرے سے قاموس ہونے لگتا ہوں

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم