MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیا خبر تھی دوستو یہ حادثہ ہو جائے گا

کیا خبر تھی دوستو یہ حادثہ ہو جائے گا میرے دل کو توڑ کر وہ غیر کا ہو جائے گا جان سے زیادہ جسے چاہا تھا میں نے دوستو یہ نہیں سوچا تھا وہ پل میں جدا ہو جائے گا پیار تو کر لو مگر اے دوستو یہ جان لو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے […]

کیا خبر تھی دوستو یہ حادثہ ہو جائے گا Read More »

آخری خط کو مرے اُس نے جلایا بھی نہیں

آخری خط کو مرے اُس نے جلایا بھی نہیں ہے محبّت یا عداوت یہ بتایا بھی نہیں جانے کیوں آج وہ گھبرایا ہوا لگتا ہے آئینہ میں نے ابھی اس کو دکھایا بھی نہیں ہاے اندازِ محبّت کوئی دیکھے اُس کا ساتھ چھوڑا بھی نہیں ساتھ نبھایا بھی نہیں جانے کس بات سے چہرہ تھا

آخری خط کو مرے اُس نے جلایا بھی نہیں Read More »

زرا سی بات پہ اتنا بوال کیسے ہوا؟

زرا سی بات پہ اتنا بوال کیسے ہوا؟ تمهارے خون میں اتنا اُبال کیسے ہوا؟ میں بھول جاؤں گی کیسے یہ کہہ دیا تم نے تمہارے دل میں یہ پیدا سوال کیسے ہوا تمیں پتا ہے کہ غصّه حرام ہے سب پر تو پھر بتاؤ یہ تم پر حلال کیسے ہوا؟ کہ جس نے ساتھ

زرا سی بات پہ اتنا بوال کیسے ہوا؟ Read More »

مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں

مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں کیا کروں مجبور ہوں میں بے بسی میں قید ہوں روشنی پنجرے میں سورج کی کبھی آتی نہیں ہر گھڑی اے دوستوں میں تیرگی میں قید ہوں دشمنوں سے تو ابھی آزاد ہو جاؤں مگر کیا کروں کچھ دوستو کی دوستی میں قید ہوں

مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں Read More »

تم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو

تم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو پیار جھوٹا یہ زمانے کو دکھاتے کیوں ہو خون ہی تم کو بہانا ہے تو کاٹو سر کو زخم دل پر اے مرے یار لگاتے کیوں ہو اس سے بہتر ہے کہ دنیا سے مٹا دو مجھ کو نام لکھ لکھ کے ہتھیلی پہ مٹاتے کیوں

تم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو Read More »

عشق کا روگ اگر دل میں نہ پالے ہوتے

عشق کا روگ اگر دل میں نہ پالے ہوتے آج آنکھوں میں نہ یہ درد کے نالے ہوتے یہ جدائی کا زہر ہم کو نہ پینا پڑتا راستے تھے ہاں مگر تم نے نکالے ہوتے کاش دو وقت کا کھانا جو میسر ہوتا ایک مجبور نے پتھر نہ اجالے ہوتے ایسے بازار میں نیلام نہ

عشق کا روگ اگر دل میں نہ پالے ہوتے Read More »

کون ہے دل میں تمہارے یہ بتا دو مجھ کو

کون ہے دل میں تمہارے یہ بتا دو مجھ کو ہے کوئی اور تو بہتر ہے بھلا دو مجھ کو میری ہر ایک نشانی تو مٹا دی تم نے اس جہاں سے بھی مرے یار مٹا دو مجھ کو گر گرانا تھا بلندی سے گرایا ہوتا یہ کہا کس نے نظر سے ہی گرا دو

کون ہے دل میں تمہارے یہ بتا دو مجھ کو Read More »

ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی

ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی چراغ میری وفا کا بجھا گیا کوئی نہ کوئی نقش قدم ہے نہ منزلوں کا پتا یہ راستہ مجھے کیسا دکھا گیا کوئی اسی امید پے میں انتظار کرتی رہی میں لوٹ آؤنگا کہہ کر چلا گیا کوئی تمام عمر کے احساں بھلا دیے اس نے ذرا سی

ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی Read More »

بکھرتی خوشبو کا ہمسفر ہونا چاہتے ہیں

بکھرتی خوشبو کا ہمسفر ہونا چاہتے ہیںخراب ہیں اور خراب تر ہونا چاہتے ہیں یہ کون مہتاب چشم گھر سے نکل پڑا ہےستارے بھی گرد رہگزر ہونا چاہتے ہیں ستم تو یہ ہے انہیں بھی منزل کی آرزو ہےجو راستے سے ادھر اُدھر ہونا چاہتے ہیں کوئی ٹھکانہ نظر میں رکھے ہوئے تو ہوں گےجو

بکھرتی خوشبو کا ہمسفر ہونا چاہتے ہیں Read More »

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھےیہ راز کیوں نہیں بتلایا جا رہا ہے مجھے کہ ریزہ ریزہ بھی ہو جاؤں اور پتا نہ چلےنظر کے آرے سے کٹوایا جا رہا ہے مجھے اگر میں واقعی پتھر ہوں دوستوں کے بقولتو نوچ نوچ کے کیوں کھایا جا رہا ہے مجھے ہجوم شہر میں

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے Read More »