MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہےدل دست تمنا کا گرفتار ہوا ہے بے ہوش گنہ جو دل بیمار ہوا ہےاک شوق طلب سا مجھے تلوار ہوا ہے صحرائے تمنا میں مرا دل تجھے پا کرشہر ہوس آلود سے بیزار ہوا ہے بے ہوش خرد کو جنوں آگاہ کرے گایہ جذب جو آمادۂ پیکار ہوا […]

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے Read More »

جچتی نہیں کچھ شاہی و املاک نظر میں

جچتی نہیں کچھ شاہی و املاک نظر میںہیں مہر و مہ و انجم و افلاک نظر میں اک سوز فسوں گر ہے تری آنکھ میں پنہاںہے دل کے لئے شوق کا فتراک نظر میں کیا خوب کہ کشکول فقیری سے ہے آیااک گنج گراں مایہ تہ خاک نظر میں اک خواب سحر ساز کا نایاب

جچتی نہیں کچھ شاہی و املاک نظر میں Read More »

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہےکبھی ہوا ہے کبھی آندھیوں کا موسم ہے ابھی نہ توڑا گیا مجھ سے قید ہستی کوابھی شراب جنوں کا نشہ بھی مدھم ہے کہ جیسے ساتھ ترے زندگی گزرتی ہوترا خیال مرے ساتھ ایسے پیہم ہے تمام فکر زمان و مکاں سے چھوٹ گئیسیاہ کارئ دل

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے Read More »

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئےکبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے جبین خود پسند کو سزائے درد یاد ہوسر جنون کوش میں خیال دار چاہئے فریب قرب یار ہو کہ حسرت سپردگیکسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہئے غم زمانہ جب نہ ہو غم وجود ڈھونڈ لوںکہ اک زمین جاں جو

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے Read More »

کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں

کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میںدل تأثر چاہتا ہے بے صدا فریاد میں تیرگیٔ خوش گماں ہے جی جہاں لگنے لگےشمع وحشت اک جلاؤں اس جہان شاد میں جانتی ہوں یہ حکایت فصل بربادی کی ہےپر متاع دل یہی ہے سینۂ ناشاد میں وہ مثال خواب رنگیں اب کہاں موجود ہےسو رہی ہوں

کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں Read More »

لمحۂ امکان کو پہلو بدلتے دیکھنا

لمحۂ امکان کو پہلو بدلتے دیکھناآتش بے رنگ میں خود کو پگھلتے دیکھنا عشق میں یہ فیصلہ ہے اس دل سودائی کاخود کو گرتے دیکھنا اس کو سنبھلتے دیکھنا اضطراب درد میں حد سے گزر جانا نہیںحسن شام آرزو کا روپ ڈھلتے دیکھنا عمر بے انداز کو کافی سہارا ہو گیاخواب خوش انداز اس کے

لمحۂ امکان کو پہلو بدلتے دیکھنا Read More »

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیںپھر لوگ میرے اندر سنسان ہو گئے ہیں ان دوریوں کی مشکل آنکھوں میں بجھ گئی ہےہم آنسوؤں میں بہہ کر آسان ہو گئے ہیں ایسی خموشیاں ہیں سب راستے جدا ہیںالفاظ میں جزیرے ویران ہو گئے ہیں تم برف میں نہ جانے کب سے جمے ہوئے ہوہم

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں Read More »

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہےپتھریلی سڑکوں پہ دریا پیاسا ہے نیند ہماری بھیڑ میں ہنستی رہتی ہےجنگل اپنی خاموشی میں الجھا ہے دھرتی اور آکاش کی دنیا میں جیوندو طوفانوں میں قیدی کشتی سا ہے ہوا پرندوں کو لے کر کس دیس گئیمیدانوں میں پیڑوں کا سناٹا ہے راتوں کی سرگوشی بنتی ہوں انجمؔخوابوں

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے Read More »

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کاکہ ایک سودا رہا جنس دل لٹانے کا فریب خواب مرے راستے کو روک نہیںکہ وقت شام ہے یہ غم کدے کو جانے کا ترے وجود سے پہچان مجھ کو اپنی تھیترا یقین تھا مجھ کو یقیں زمانے کا خراب عشق ہوں خود موت ہوں میں اپنے لیےسکھا رہی

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا Read More »

دل اپنے اگر دوستو مردار نہ ہوتے

دل اپنے اگر دوستو مردار نہ ہوتے دنیا کی نگاہوں میں کبھی خوار نہ ہوتے ہر قوم سے بہتر تھی یہی قوم مسلماں کچھ لوگ اگر قوم میں غدار نہ ہوتے قرآن کی آیات کے معنی جو سمجھتے بدکار ،گنہگار ، سیہ کار نہ ہوتے صد شکر کہ امت میں ہیں سرکار کی ورنہ ہم

دل اپنے اگر دوستو مردار نہ ہوتے Read More »