MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے
یہ راز کیوں نہیں بتلایا جا رہا ہے مجھے

کہ ریزہ ریزہ بھی ہو جاؤں اور پتا نہ چلے
نظر کے آرے سے کٹوایا جا رہا ہے مجھے

اگر میں واقعی پتھر ہوں دوستوں کے بقول
تو نوچ نوچ کے کیوں کھایا جا رہا ہے مجھے

ہجوم شہر میں لا کر مرا کٹا ہوا سر
اچھال اچھال کے منوایا جا رہا ہے مجھے

مری طلب نہ زمینی نہ آسمانی ہے
سو خالی ہاتھ ہی لوٹایا جا رہا ہے مجھے

میں جانتا ہوں کہ شانوں پہ سر نہیں رہنا
اگر چہ تاج تو پہنایا جا رہا ہے مجھے

ہمارے بیچ کوئی تیسرا نہ آئے گا
زبانِ غیر سے کہلایا جا رہا ہے مجھے

جسے بقا کی ضمانت سمجھ رہا تھا میں
اسی فصیل میں چنوایا جا رہا ہے مجھے

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم