MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کاش جو جیسا نظر آئے وہ ویسا نکلے

کاش جو جیسا نظر آئے وہ ویسا نکلے
میں جسے اپنا بناؤں میرا اپنا نکلے

ایک اک کر کے بہانے سے مجھے چھوڑ گئے
میرے گنتی کے حواری بڑے دانا نکلے

کم سے کم آب و ہوا کا ہی بھرم رہ جائے
ایک پودا ہی بھرے باغ میں سیدھا نکلے

دشتِ وحشت کے مسافر کی تسلّی ہو جائے
اک ببُولا بھی اگر محملِ لَیلا نکلے

نہ یہاں آب نہ سایہ نہ پنہ گاہ نہ راہ
ہم اک آہُو کے تعاقب میں کہاں آ نکلے

سعید صاحب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم