MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ

شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ
لفظ ڈھلتے گئے پھر کہانی کے ساتھ

اب تو بیکار ہے زندہ رہنا یہاں
کون جیتا ہے یوں بد گمانی کے ساتھ

چربہ کر کے کہاں تک ٹکو گے میاں
کچھ حقیقت بھی ہو لن ترانی کے ساتھ

پھول چمپا چنبیلی مبارک تمہیں
میں تو سونے چلا رات رانی کے ساتھ

مفت میں سر بلندی کسے ہے ملی
ہم بھی پہنچے یہاں جاں فشانی کے ساتھ

یوں اکڑ کے چلو گے تو مٹ جاؤگے
کچھ مفاہم بھی ہوں زندگانی کے ساتھ

وقت گردش کے تابش میاں کٹ گئے
دن گزرتے ہیں اب شادمانی کے ساتھ

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم