شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ
لفظ ڈھلتے گئے پھر کہانی کے ساتھ
اب تو بیکار ہے زندہ رہنا یہاں
کون جیتا ہے یوں بد گمانی کے ساتھ
چربہ کر کے کہاں تک ٹکو گے میاں
کچھ حقیقت بھی ہو لن ترانی کے ساتھ
پھول چمپا چنبیلی مبارک تمہیں
میں تو سونے چلا رات رانی کے ساتھ
مفت میں سر بلندی کسے ہے ملی
ہم بھی پہنچے یہاں جاں فشانی کے ساتھ
یوں اکڑ کے چلو گے تو مٹ جاؤگے
کچھ مفاہم بھی ہوں زندگانی کے ساتھ
وقت گردش کے تابش میاں کٹ گئے
دن گزرتے ہیں اب شادمانی کے ساتھ
تابش رامپوری