MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے
تو نہیں ہے تو دو عالم بھی نہیں ساتھ اپنے

ساتھ کچھ دور ترے ہم بھی گئے تھے لیکن
اب کہاں جائیں کہ خود ہم بھی نہیں ساتھ اپنے

وہ بھی اک وقت تک خورشید بکف پھرتے تھے
یہ بھی اک وقت ہے شبنم بھی نہیں ساتھ اپنے

ناخن وقت نے کب زخم کو دہکایا ہے
ایسے اک وقت کہ مرہم بھی نہیں ساتھ اپنے

سامنے کتنی صلیبیں ہیں پئے بے گنہی
آج لخت دل مریم بھی نہیں ساتھ اپنے

پی کے سوچا کہ خریدیں گے غم دنیا بھی
طے ہوئے دام تو درہم بھی نہیں ساتھ اپنے

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم