MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں
اب خاک رہ کاہکشاں چھان رہا ہوں

اصنام سے دیرینہ تعلق کی بدولت
میں کفر کا ہر دور میں ایمان رہا ہوں

دنیا سے لڑائی تو ازل ہی سے رہی ہے
اب خود سے جھگڑنے کی بھی میں ٹھان رہا ہوں

اب تک تو شب و روز کچھ اس طرح کٹے ہیں
جس جا بھی رہا اپنا ہی مہمان رہا ہوں

منصب یہ مجھے جبر مشیت سے ملا ہے
چلتی ہوئی لاشوں کا نگہبان رہا ہوں

وہ شعر ہوں جس کو ابھی سوچے گا زمانہ
لکھا نہ گیا جس کو وہ دیوان رہا ہوں

بے تاج ہوں بے تخت ہوں بے ملک و حکومت
ہاں نام کا لیکن میں سلیمانؔ رہا ہوں

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم