MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے

یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے
کہ تیرے دیکھنے کو آنکھ مدت سے ترستی ہے

بنے ہیں جب سے وہ ساقی مزے کی مے پرستی ہے
ادھر مے ہے پیالوں میں ادھر آنکھوں میں مستی ہے

تری آنکھوں کے صدقے ایک دنیا ان میں بستی ہے
فسوں ہے سحر ہے اعجاز ہے شوخی ہے مستی ہے

تباہی دل میں رہتی ہے خرابی دل میں بستی ہے
یہی آباد بستی ہے یہی ویران بستی ہے

نگاہوں سے ملاتا ہوں نگاہیں اس تمنا میں
وہ میرے دل میں آ جائے جو ان آنکھوں میں مستی ہے

وہ جنس دل کی قیمت پوچھتے ہیں میں بتاؤں کیا
یہی مہنگی سی مہنگی ہے یہی سستی سی سستی ہے

نہ صہبا ہے نہ ساغر ہے نہ مینا ہے نہ خم ساقی
مجھے جو مست کرتی ہے تری آنکھوں کی مستی ہے

ازل سے حق پرستی بت پرستی سنتے آتے ہیں
مگر یہ آپ کا مشرب نرالا خود پرستی ہے

جوانی نے دئے ہیں ان کو لا کر ہم نشیں کیا کیا
ادا میں ناز چتون میں حیا آنکھوں میں مستی ہے

مدار زندگی ٹھہرا نفس کی آمد و شد پر
ہوا کے زور سے روشن چراغ بزم ہستی ہے

تماشا ہے مری رندی کہ ساغر ہاتھ میں لے کر
ہر اک سے پوچھتا ہوں میں کہیں تھوڑی سی مستی ہے

فراق روح کیوں کر ہو گوارا جسم انساں کو
اجڑ کر پھر نہیں آباد ہوتی یہ وہ بستی ہے

وہ میکش ہوں کہ آتا ہے جو لب پر نام توبہ کا
تو مجھ پر جوش میں آ کر گھٹا کیا کیا برستی ہے

عجب شے جنس الفت ہے کہ دل جائے تو ہاتھ آئے
ہمیشہ ایک قیمت ہے نہ مہنگی ہے نہ سستی ہے

جبھی تک عکس قائم ہے کہ آئینہ مقابل ہو
ہماری یہ حقیقت ہے ہماری اتنی ہستی ہے

یقیں جانو کہ منہ دیکھی محبت ہم نہیں رکھتے
وہ آئینہ ہے جو وارفتۂ صورت پرستی ہے

بہت جھٹکے نہ دے دست جنوں جیب و گریباں کو
رہے تجھ کو لحاظ اس کا پرانا رخت ہستی ہے

دل عاشق میں حسرت بھی ہے ارماں بھی تمنا بھی
وہ جس بستی میں رہتے ہیں بڑی آباد بستی ہے

فنا اول بھی تھی آخر بھی ہونا ہے فنا ہم کو
کریں کیا دو عدم کے بیچ میں اک اپنی ہستی ہے

جلیلؔ استاد کا کہنا سنو باندھو کمر تم بھی
عجب بستی مدینہ ہے جہاں رحمت برستی ہے

جلیل مانک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم