MOJ E SUKHAN

ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی

ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی
پتھر کی چوٹ دل سے اٹھائی نہ جائے گی

ہونے دو ہو رہے ہیں جو الفت کے تذکرے
بگڑوگے تم تو بات بنائی نہ جائے گی

کہہ دو یہ شمع سے کہ عبث تو ہے اشک بار
پانی سے دل کی آگ بجھائی نہ جائے گی

چلمن ہو یا نقاب ہو یا پردۂ حیا
صورت تری کسی سے چھپائی نہ جائے گی

ممکن ہے تیر ناز سے دل کو بچا بھی لوں
لیکن نظر کی چوٹ بچائی نہ جائے گی

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار
کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

توبہ کو منہ لگا کے خجل ہوگے تم جلیلؔ
جام و سبو سے آنکھ ملائی نہ جائے گی

جلیل مانک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم