MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھینچا ہے میں نے اپنے لیے بھی حصار سا

چاروں طرف خلا میں ہے گہرا غبار سا
پھر بھی کہیں پہ ہے یوں ہی کچھ آشکار سا

کیا پھوٹتا ہے دل کی زمیں سے برنگ غم
کیا تیرتا ہے آنکھ میں نقش بہار سا

بکھرے ہیں میرے گرد نشان قدم مرے
کھینچا ہے میں نے اپنے لیے بھی حصار سا

فرصت جو ہو تو کھل کے برس میری خاک پر
بن جاؤں میں بھی ایک شجر سایہ دار سا

تنہا درخت میں بھی ہوں اس کے کنار میں
وہ بھی مرے قریب ہے اک جوئبار سا

عشرتؔ اداس طاق پہ یہ زرد رو چراغ
تنہائیوں میں میری ہے اک غم گسار سا

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم