فلک پہ اُڑتے پرندے ، ہَوا کی نظمیں ہیں
زمیں پہ پھول، تِرے نقشِ پا کی نظمیں ہیں
ہر ایک آنکھ اِنہیں حفظ کرنا چاہتی ہے
حسین لوگ یقیناً خدا کی نظمیں ہیں
نظر میں نور نہیں ہے نجف کے نوحے ہیں
اور اشک ، اشک نہیں کربلا کی نظمیں ہیں
اِنہیں تُو پیار سے پڑھ کر سُنا پرندوں کو
یہ سبز پیڑ برستی گھٹا کی نظمیں ہیں
اُسے پسند محبت میں شدتیں شہباز
ہمارے لب پہ بھی جون ایلیا کی نظمیں ہیں
شہباز نیر