MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے
ہنگامے اگر تیرے ہیں تنہائی مری ہے

اے حسن تو ہر رنگ میں ہے قابل عزت
میں عشق ہوں ہر حال میں رسوائی مری ہے

جو سطح پہ ہے تیری رسائی ہے اسی تک
فن کار ہوں میں زیست کی گہرائی مری ہے

ہستی کے اجالے ہیں مری آنکھ کا پرتو
ہر چشمۂ پر نور میں بینائی مری ہے

ہر نقش حسیں ہے مری کاوش کا نتیجہ
ہر منظر دل کش میں توانائی مری ہے

شاعر ہوں صداقت کا پرستار ہوں روحیؔ
ہر رنگ میں ہر دور کی سچائی مری ہے

روحی کنجاہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم