MOJ E SUKHAN

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں
ہر ایک دور میں تخلیق ارتعاش کروں

میں فاش ہو ہی چکا ہوں تو کیا ضروری ہے؟
کہ اپنے ساتھ تجھے بھی جہاں میں فاش کروں

سراغ زیست ملے ریزہ ریزہ انساں کو
بتان عصر کو کچھ ایسے پاش پاش کروں

زمیں نے قرض دیا مجھ کو رزق کی صورت
مروں تو کیوں نہ سپرد اس کے اپنی لاش کروں

مجھے نجات ملے تیرہ کاریوں سے کاش
میں نور اگاؤں یہاں روشنی معاش کروں

مری بقا کا تقاضا ہے جب بھی رت بدلے
میں جمع از سر نو اپنی قاش قاش کروں

جدید دور میں رہتے ہوئے بھی اے روحیؔ
ہے آرزو کہ نہ ترک اپنی بود و باش کروں

روحی کنجاہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم