MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے

غزل ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے شاید ہے سوگوار بہاراں مرے لئے قطرے کو دے کے آب میرے دل کو احتیاج کیا کیا اٹھائے جاتے ہیں طوفاں مرے لئے کل وہ سنیں گے زیست کی کیفتیوں کا ذکر رکھا گیا ہے درد کا عنواں مرے لئے مبہم سا وعدہ آنے کا پھر […]

ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے Read More »

پا کر شمیم گیسوئے جاناں صبا سے آج

غزل پا کر شمیم گیسوئے جاناں صبا سے آج ملتا نہیں دماغ گلوں کو ہوا سے آج عہدہ بر‌‌ آ جو ہونا تھا عہد وفا سے آج ہم کیا سبک سرا نہ ملے ہیں قضا سے آج کہہ دے یہ کوئی شیوۂ حاجت روا سے آج برگشتہ ہو کے بات نہ کرنا گدا سے آج

پا کر شمیم گیسوئے جاناں صبا سے آج Read More »

درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا

غزل درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا اہل دنیا چاہتے ہیں تیرے دیوانے سے کیا یہ جلا وہ بجھ گئی اور بات مگھم رہ گئی شمع کہنا چاہتی تھی اپنے پروانے سے کیا ہوش میں ہوتے تو اس کا جائزہ لیتے ضرور چھوڑ کر آئے ہیں کیا لائے ہیں میخانے

درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا Read More »

دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ

غزل دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ بستے ہیں اس دنیا میں بھی کیسے کیسے سیانے لوگ اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں دنیا کا کیا لیتے ہیں ہم سے آپ نہ الجھا کیجئے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ دل کا راز تھی سچی چاہت لیکن کیسے عام ہوئی ہم تو چپ بیٹھے

دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ Read More »

اس موسم کے پھل کڑوے ہیں پھولوں میں بھی رنگ نہیں

غزل اس موسم کے پھل کڑوے ہیں پھولوں میں بھی رنگ نہیں طائر ہیں محتاج نشیمن نغموں میں آہنگ نہیں اس کے فتنوں کی سرکوبی صلح سے پہلے واجب ہے غیر کی پیدا کردہ شورش ہے آپس کی جنگ نہیں تیغوں کی جھنکار میں بھی اک وجد آور کیفیت ہے روح کو جولاں کرنے والے

اس موسم کے پھل کڑوے ہیں پھولوں میں بھی رنگ نہیں Read More »

شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا

غزل شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا میں بدلتے وقت کی گردش کا پیمانہ رہا شمع نے جل کر پریشاں کر دیا مرا وجود تیرگی تک مجھ سے وابستہ مرا سایا رہا دوسروں کو جو شکایت مجھ سے تھی بے جا نہ تھی میں وہ ہوں جس کو خود اپنے آپ سے شکوا رہا

شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا Read More »

ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں

غزل ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں کیا جانے زندگی کا گیا کارواں کہاں آرام لینے دیتا ہے دور زماں کہاں ٹھہرے جو راہ میں تو رکے کارواں کہاں بچتا ہے باڑھ باندھے سے بھی گلستاں کہاں رکتی ہے روکنے سے بھی آتی خزاں کہاں زنداں کہاں سلگتا ہوا آشیاں کہاں پہنچا سونامی

ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں Read More »

دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر

غزل دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر اب موت بھی عطا ہو تقاضا کئے بغیر بازار زندگی ہے فقط گھومنے کی جا کچھ بھی یہاں ملے گا نہ سودا کئے بغیر میں بھی انا پسند ہوں لیکن کروں تو کیا دل مانتا نہیں اسے سجدہ کئے بغیر جلوہ نمود جسم ہے اور جسم ہے

دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر Read More »

ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں

قطع ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں یہ قید اچھی ہے میں عرض حال بھی نہ کروں کرم کرو مرا احساس چھین لو مجھ سے کہ میں تمہاری جفا کا خیال بھی نہ کروں جو التجا کو سمجھتے ہو احتجاج مرا تو کیا یہ چاہتے ہو میں سوال بھی نہ کروں محمود سروش

ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں Read More »

نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا

غزل نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا وہ اٹھ کے جائے کہاں تیری رہ گزر کے سوا دل حزیں کی تمنا نگاہ کے مطلوب خدا رکھے وہ سبھی کچھ ہیں چارہ گر کے سوا رضائے دوست تب و تاب سینۂ دشمن دعا کو اور بھی کچھ چاہئے اثر کے سوا وہ

نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا Read More »