MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

غزل آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو دیکھا نہیں رخ کرتے جس طرف زمانے کو جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو اس کنج طبیعت کی […]

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو Read More »

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے

غزل کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے سیاہ دشت خار سے کہاں دو چار ہو گئے کہ شوق پیرہن تمام تار تار ہو گئے یہاں جو دل میں داغ تھا وہی تو اک چراغ تھا وہ رات ایسا گل ہوا کہ شرمسار

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے Read More »

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

غزل کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا تو میں نے خیمۂ شب سے کسے پکارا تھا کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا مکاں میں کیا کوئی وحشی ہوا در آئی تھی تمام پیرہن خواب پارہ پارہ تھا اسی کو بار دگر دیکھنا نہیں

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا Read More »

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا

غزل چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا اپنا تو سب کے ہاتھوں خسارہ بہت ہوا کیا بے سبب کسی سے کہیں اوبتے ہیں لوگ باور کرو کہ ذکر تمہارا بہت ہوا بیٹھے رہے کہ تیز بہت تھی ہوائے شوق دشت ہوس کا گرچہ ارادہ بہت ہوا آخر کو اٹھ گئے تھے جو اک

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا Read More »

کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا

غزل کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا ورنہ ہمیں اس کوچے میں آنا ہی نہیں تھا ہنگامۂ وحشت تھا جہاں جشن جنوں میں دیکھا تو وہاں کوئی دوانہ ہی نہیں تھا وہ دل کی لگی ہے کہ بجھائے نہیں بجھتی کل رات گلے اس کو لگانا ہی نہیں تھا ملتا ہے تو اب

کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا Read More »

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں

غزل میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں کوئی تو منظر سیاہ دریا کے پار دیکھوں کبھی وہ عالم کہ اس طرف آنکھ ہی نہ اٹھے کبھی یہ حالت کہ اس کو دیوانہ وار دیکھوں یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں Read More »

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا

غزل وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا تمام رات یہ دل سخت امتحان میں تھا سکوں سراب زمیں میں جھلس گیا تھا بدن نہ جانے کون دھنک رنگ سائبان میں تھا ذرا سا دم نہ لیا تھا کہ مند گئیں آنکھیں میں اس سفر سے نکل کر عجب تکان میں تھا وہ جاتے

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا Read More »

کیا دل کا یہ علاقہ خالی پڑا رہے گا

غزل کیا دل کا یہ علاقہ خالی پڑا رہے گا ہم تم نہ ہوں گے تو بھی میلہ لگا رہے گا زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا بند قبا کا کھلنا مشکل بہت ہے لیکن لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا

کیا دل کا یہ علاقہ خالی پڑا رہے گا Read More »