آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو
غزل آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو دیکھا نہیں رخ کرتے جس طرف زمانے کو جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو اس کنج طبیعت کی […]
آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو Read More »

