MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا

غزل

شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا
میں بدلتے وقت کی گردش کا پیمانہ رہا

شمع نے جل کر پریشاں کر دیا مرا وجود
تیرگی تک مجھ سے وابستہ مرا سایا رہا

دوسروں کو جو شکایت مجھ سے تھی بے جا نہ تھی
میں وہ ہوں جس کو خود اپنے آپ سے شکوا رہا

زندگی میں جانے کتنی بار آ کر ٹل گئی
وہ اجل میں راہ جس کی عمر بھر تکتا رہا

ذوق رائج کے مطابق نت نئے پہنے لباس
زیر جامہ جیسا بوسیدہ تھا بوسیدہ رہا

ایک لمحہ کو ملا تھا کیف از خود رفتگی
اک صدی سے بھی زیادہ اس کا خمیازہ رہا

غیر نے جب تک نہ آئینہ دکھایا اے شروشؔ
میرا چہرہ خود مری نظروں سے پوشیدہ رہا

محمود سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم