کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے
کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلےان سے آغاز سخن کے کئی پہلو نکلے یوں بھی وہ بزم تصور سے گزر جاتے ہیںجیسے لے ساز سے یا پھول سے خوشبو نکلے ہے اس امید پہ صیقل ہنر تیشہ زنیسینۂ سنگ سے شاید کوئی گل رو نکلے قصۂ دار و رسن ہی سہی کچھ بات کروکسی […]
کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے Read More »