MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلےان سے آغاز سخن کے کئی پہلو نکلے یوں بھی وہ بزم تصور سے گزر جاتے ہیںجیسے لے ساز سے یا پھول سے خوشبو نکلے ہے اس امید پہ صیقل ہنر تیشہ زنیسینۂ سنگ سے شاید کوئی گل رو نکلے قصۂ دار و رسن ہی سہی کچھ بات کروکسی […]

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے Read More »

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہوپھوٹے گی ہر کلی میں زباں دیکھتے رہو برپا سر حیات ہے اک حشر دار و گیردیتا ہے کون کس کو اماں دیکھتے رہو دم بھر کو آستان تمنا پہ ہے ہجومجائے بچھڑ کے کون کہاں دیکھتے رہو ملنے کو ہے خموشئ اہل جنوں کی داداٹھنے کو ہے زمیں

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو Read More »

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہےتیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیںمرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و دریہ روشنی سی کیا تری بوئے قبا میں ہے ہر رہ گزر نشاں

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے Read More »

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھانشۂ‌ نگہت گل بھی خلش خار میں تھا کس سے کہیے کہ زمانے کو گراں گزرا ہےوہ فسانہ کہ مری حسرت گفتار میں تھا دل کہ آتا ہی نہیں ترک تمنا کی طرفکوئی اقرار کا پہلو ترے انکار میں تھا کچھ تجھے یاد ہے اے چشم‌ زلیخائے جہاںہم

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا Read More »

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہوروشن چراغ دل نہ سہی جام مے تو ہو ہم تو رہین رشتۂ بے گانگی رہےسارے جہاں سے تیری ملاقات ہے تو ہو غم بھی مجھے قبول ہے لیکن بہ قدر شوقدل کا نصیب درد سہی پے بہ پے تو ہو فریاد ایک شور ہے آہنگ کے

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو Read More »

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھاایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا اشک غم تھم گئے یاد آتے ہی ان کی صورتجب چڑھا چاند تو پھر نور ستاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہےکون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا Read More »

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلےلے کر پیام شوق کئی نامہ بر چلے دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے یہ ہماب کیا کریں کہ خود ترے گیسو بکھر چلے ہر گام پر شکست نے یوں حوصلہ دیاجس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہم سفر چلے شوق طلب نہ ہو کوئی بانگ جرس تو ہوآخر کوئی

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے Read More »

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہ

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہہمیں یاد آئے سب اہل کرم آہستہ آہستہ دل مضطر کی بیتابی کا عالم کیسا عالم ہےکھنچا جاتا ہے دل سوئے صنم آہستہ آہستہ چلا ہوں منزل جاناں میں کچھ ایسے تأثر سےنظر شرمندہ شرمندہ قدم آہستہ آہستہ نگاہ لطف کس کی ہو گئی میرے مقدر پریہ کس کا

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہ Read More »

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سے

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سےراز کونین کھلے عشق کے افسانے سے ہو گئی عشق مجازی سے حقیقت کی نمودراہ کعبے کی نظر آئی ہے بت خانے سے قطرے قطرے کا مجھے دینا ہے محشر میں حسابمے چھلک جائے نہ ساقی کہیں پیمانے سے جانے کتنے دل مشتاق لیے ہے ارماںکاش شب ٹھہر بھی

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سے Read More »

عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس

عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بسکوچۂ ارباب دل سے یہ صدا آئی کہ بس جب قدم دیوانگی کی حد سے آگے بڑھ گئےدیکھنے والوں کو مجھ پر وہ ہنسی آئی کہ بس بوئے مشکیں مسکرائی پھول خوشبو لے اڑےاس سراپا ناز کی یوں زلف لہرائی کہ بس دیکھ کر وہ بانکپن وہ

عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس Read More »