MOJ E SUKHAN

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا
دماغ سے نہیں ہوگا مقابلہ دل کا

علاج تیرے تغافل نے کر دیا دل کا
بہت دنوں سے دماغ آسماں پہ تھا دل کا

تم انتظام کروگے بتاؤ کیا دل کا
یہاں تو خود نہیں معلوم مدعا دل کا

عجیب لوگ ہیں یہ دل کو کیا سمجھتے ہیں
طبیب جسم میں ڈھونڈا کئے پتہ دل کا

بس ایک طرز بیاں کی ملی ہے داد ہمیں
سنا کے دیکھ لیا سب کو ماجرا دل کا

شجاعؔ دل کی کہانی بس اب تمام کرو
بیان کرنے لگے ہیں ہما شما دل کا

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم