MOJ E SUKHAN

تبھی آئے گی لبوں پر مرے دل کی بات کھل کے

تبھی آئے گی لبوں پر مرے دل کی بات کھل کے
مری ذات سے ملے جب تری کائنات کھل کے

مرا عشق ہے بس اتنا کہ جگائیں کوئی فتنہ
ترے ہونٹ بند ہو کے مری خواہشات کھل کے

مجھے باندھ کر جنہوں نے سر طاق رکھ دیا ہے
کبھی خود بیاں کروں گا میں وہ سب نکات کھل کے

یہ جو آج بستہ بستہ سا عدو کے رخت میں ہے
یہی گل بدن ملا تھا کبھی پوری رات کھل کے

بڑی بے مزہ گزاری ہے زمانہ سازیوں نے
نہ عداوتیں نبھائیں نہ تعلقات کھل کے

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم