MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں

غزل

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں
سائے سائے کتنے چہرے آنکھوں میں پھر جاتے ہیں

اب تو اچھے دل والوں کا قحط سا پڑتا جاتا ہے
لیکن نقلی چہرے والے دل اپنا بھرماتے ہیں

چھو جاتی ہے جب بھی آ کر یادوں کی پروائی سی
ننھے ننھے کتنے دیپک پلکوں میں جل جاتے ہیں

اپنوں میں بیگانہ بن کر زندہ رہنا مشکل ہے
لیکن دیکھ زمانے ہم کو ہم جی کر دکھلاتے ہیں

جانے کب سے ہم بیٹھے ہیں سوچوں کے چوراہے پر
چورنگی کا میلہ ہے جگ ہم بھی دیکھے جاتے ہیں

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم