نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے
غزل نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے کہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے خدا ہی جانے میں آئی ہوں کیسے گلشن میں یہاں تو خار بھی حسن و جمال رکھتا ہے ہر ایک زخم پہ میرے نمک چھڑکتا ہے وہ دوست میرا بہت ہی خیال رکھتا ہے تمام رشتوں کو توڑا […]
نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے Read More »