MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے

غزل نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے کہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے خدا ہی جانے میں آئی ہوں کیسے گلشن میں یہاں تو خار بھی حسن و جمال رکھتا ہے ہر ایک زخم پہ میرے نمک چھڑکتا ہے وہ دوست میرا بہت ہی خیال رکھتا ہے تمام رشتوں کو توڑا […]

نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے Read More »

اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح

غزل اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح میں بھی ہوں عشق میں مسحور زلیخا کی طرح میرا آئین ہے ایثار کسی میرا کا اور بے باکی ہے دستور زلیخا کی طرح دکھ تو اس کا ہے مگر ہوں میں برابر کی شریک دل تو میرا بھی ہوا چور زلیخا کی طرح عشق

اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح Read More »

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے

غزل یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے سکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہے وہ آدمی جو ہمیشہ مرے خلاف رہا اسی کی مجھ پہ حکومت دکھائی دیتی ہے محبتیں ہی سکھاتی ہیں ہر سبق لیکن بہت سے درس ہمیں بے وفائی دیتی ہے یہ انگلیاں ہی قلم بن کے چلنے لگتی ہیں

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے Read More »

تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں

غزل تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں منزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیں اس کو کیا معلوم کہ صدیاں لمحوں سے ہی بنتی ہیں صدیوں کی ہے فکر اسے ان لمحوں کی پرواہ نہیں اپنے پن کا مطلب بھی تو لوگوں کو معلوم نہیں میرا اپنا وہ ہے

تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں Read More »

کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیں

غزل کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیں پڑا ہے وقت تو دار و رسن سے گزرے ہیں وہ کیا ڈریں گے ترے پیچ و خم سے راہ حیات جو کوئے زلف شکن در شکن سے گزرے ہیں نثار موسم گل ان کی خندہ روئی پر جو مسکراتے ہوئے اس چمن سے گزرے ہیں

کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیں Read More »

بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحری

غزل بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحری ترے افسوں کی سب اے دوست ہے افسانہ گری ایک ہی حال پہ قائم ہے ازل سے اب تک حسن کی عشوہ گری عشق کی شوریدہ سری جانے والے تو ستاروں سے پرے جا پہنچے اہل محفل لئے بیٹھے رہے شیشہ کی پری اب کوئی فرق نہیں

بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحری Read More »

ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہے

غزل ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہے مجھ سا شہید طالع بیدار کون ہے محو طواف کوچۂ جاناں سبھی تو ہیں لیکن یہ دیکھیے کہ سر دار کون ہے اک شمع ہے سو جلتی ہے اپنی ہی آگ میں اے سوز عشق تیرا عزادار کون ہے دنیا ہے قید خانہ سبھی قید ہیں

ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہے Read More »

حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا

غزل حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا ان کی آنکھوں میں ہے شکوہ مجھے معلوم نہ تھا اب سوا مرثیۂ کم نگہی کیا کہئے سامنے تھا مرے جلوہ مجھے معلوم نہ تھا مجھ کو شکوہ نہیں کچھ آتش گل سے لیکن آشیاں یوں بھی جلے گا مجھے معلوم نہ تھا گم ہوئی

حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا Read More »

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

غزل تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر وفاؔ کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر ہر ایک دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا فقط خلوص کا غازہ تھا سب کے

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر Read More »

مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں

غزل مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں مجھے پڑھو ورق مصحف وفا ہوں میں ملے گی اس میں تمہیں اپنے دل کی دھڑکن بھی کسی کے قلب شکستہ کی اک صدا ہوں میں تمام رات جو لڑتا رہا اندھیروں میں حریم عشق کا وہ آخری دیا ہوں میں بڑھا ہوا ہے زمانہ میں

مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں Read More »