MOJ E SUKHAN

عشق سمجھا ہے کس لیے آسان

عشق سمجھا ہے کس لیے آسان
جس میں ہر لمحہ کھنچتی جائے جان

خواب میں بھی مجھے ڈراتے ہیں
رات کا وقت اور گلی سنسان

دیکھ کر تجھ کو کِھل اٹھی ہوں میں
آ گئ دیکھ میری جان میں جان

تُو نے دیکھی ہیں غمزدہ آنکھیں؟
تُو نے دیکھے ہیں مر چکے ارمان

آج ملنے سے ہیں گریزاں لوگ
کل مرے نام پر ہوئے قربان

تسنیم بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم