MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یونہی کہاں اے دوست سنورتا ہے آئنہ

یونہی کہاں اے دوست سنورتا ہے آئنہ
صورت کو میری روز ترستا ہے آئنہ

گھر سے میں جب نکلتی ہوں بازار کام سے
کیوں بن کے نگہبان نکلتا ہے آئنہ

بیکار میں الجھتی ہوئی روز و شب کے ساتھ
بیکار روز و شب سے الجھتا ہے آئنہ

حیرانگی سے دیکھنے لگتی ہوں اس کو میں
حیراں جو مجھ کو دیکھ گزرتا ہے آئنہ

آنکھوں میں دو چراغ چمکتے ہیں رات بھر
اور ان کو دیکھ دیکھ چمکتا ہے آئنہ

تسنیم بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم